<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<article>
  <journalMeta>
    <journalTitle>Al-Qamar</journalTitle>
    <issn type="online">2664-4398</issn>
    <issn type="print">2664-438X</issn>
    <website>www.alqamarjournal.com</website>
    <volume>9</volume>
    <issue>2</issue>
    <period>April-June 2026</period>
    <accessType>Open Access</accessType>
    <license>CC-BY</license>
    <startPage>89</startPage>
  </journalMeta>

  <titleGroup>
    <title xml:lang="ur">الوارث بچوں کے حقوق و تحفظ سے متعلق اسلامی فقہ اور عصری قانونی فریم ورک کا تقابلی و اطلاقی مطالعہ</title>
    <title xml:lang="en">An Applied Comparative Study of Islamic Jurisprudence and Contemporary Legal Frameworks Governing the Rights and Protection of Abandoned Children</title>
  </titleGroup>

  <authorGroup>
    <author>
      <name>Abdul Quddoos Durrani</name>
      <affiliation>Doctoral Candidate, School of Islamic Studies, Faculty of Islamic Studies and Sharia, Minhaj University, Lahore</affiliation>
      <email>abdulquddoosdurrani@gmail.com</email>
    </author>
    <author>
      <name>Dr. Muhammad Mumtaz ul Hassan</name>
      <affiliation>Professor, School of Islamic Studies, Faculty of Islamic Studies and Sharia, Minhaj University, Lahore</affiliation>
    </author>
  </authorGroup>

  <abstract xml:lang="en">
    <p>Abandoned children constitute one of the most vulnerable segments of society due to the absence of parental care, legal guardianship, and adequate social protection. Islamic jurisprudence addresses this issue primarily through the concept of Laqit (foundling) and Yateem (Orphans), while contemporary legal systems regulate it through child protection laws and international human rights instruments. This study critically examines the implementation of Islamic and contemporary legal frameworks governing the rights, protection, guardianship, and welfare of abandoned children. Employing a qualitative and analytical research methodology, the study analyzes the Qur'an, Sunnah, classical juristic opinions, Pakistani legislation and relevant international conventions, including the United Nations Convention on the Rights of the Child (UNCRC). The findings reveal that Islamic law offers a comprehensive and value-based framework centered on guardianship (wilayah), maintenance (kafalah), protection of life, lineage, property, religion, and human dignity. Contemporary legal systems similarly emphasize child welfare, education, healthcare, legal identity, and institutional protection; however, practical implementation often remains inadequate due to administrative, legal, and socio-economic challenges. The study concludes that harmonizing contemporary child protection laws with the objectives of Shariah (Maqasid al-Shariah), strengthening institutional mechanisms, and ensuring effective enforcement can significantly enhance the protection and welfare of abandoned children. It recommends integrated legal, social, and policy reforms based on both Islamic principles and international human rights standards.</p>
  </abstract>

  <keywords>
    <keyword>Abandoned Children</keyword>
    <keyword>Foundling (Laqit)</keyword>
    <keyword>Islamic Law</keyword>
    <keyword>Child Protection</keyword>
    <keyword>Guardianship (Wilayah)</keyword>
    <keyword>Kafalah</keyword>
  </keywords>

  <body>

    <section id="sec-intro" xml:lang="ur">
      <title>الوارث بچوں کا اعتراف</title>
      <p>لاوارث بچے وہ ہوتے ہیں جنہیں ان کے والدین یا خاندان کی جانب سے چھوڑ دیا گیا ہو یا جو کسی حادثے کے نتیجے میں اپنے خاندان سے محروم ہوگئے ہوں۔ کچھ بچوں کو گلیوں میں، ہسپتالوں میں یا فلاحی اداروں کے دروازوں پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ایسے بچے "لاوارث" کہلاتے ہیں۔ فقہی کتب میں ایسے بچوں کی تفصیلات کو لقیط کے باب میں زیر بحث لایا جاتا ہے جبکہ عصری قوانین میں انہیں "Abandoned children / Children's Rights" کے عنوان سے بیان کیا جاتا ہے۔</p>
      <note type="citation">Shaykh Saeed Nazari Tavakkoli's thesis, translated by Ahmad Rezwani, discusses Abandoned Children under the topic of Laqit in "Child custody in Islamic Jurisprudence: A Study on the Legal Issues of Abandoned Children."</note>
    </section>

    <section id="sec-forms" xml:lang="ur">
      <title>لاوارث ہونے کی عصری صورتیں (وجوہات)</title>
      <p>وہ بچے جو کسی بھی وجہ سے اپنے والدین یا ولی کی سرپرستی سے محروم رہ گئے ہوں، لاوارث بچے کہلاتے ہیں۔</p>
      <list>
        <item n="1">والدین یا ولی بچپن میں فوت ہو گئے ہوں یا ان سے کسی حادثے کے نتیجے میں جدا ہو گئے ہوں (وبائی امراض، زلزلے یا حادثات)۔ وارث میسر نہیں ہوتے یا ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیتے ہیں۔</item>
        <item n="2">ناجائز پیدائشی بچے جنہیں اپنا راز چھپانے کے لیے کسی فرد یا ادارے کی جانب سے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کے وارثوں کا پتا نہیں ہوتا اور یہ حقیقی معنوں میں لاوارث ہوتے ہیں (نقل شدہ اقتباس از "Child custody in Islamic Jurisprudence" صفحہ 64)۔</item>
        <item n="3">معاشرتی تبدیلیوں اور اقتصادی دباؤ نے بچوں کے لاوارث ہونے کے طریقے بدل دیے ہیں (مثلاً غربت یا بیٹیوں کی کثرت کی وجہ سے نوزائیدہ کی پرورش میں ناکامی)۔</item>
        <item n="4">خاندان کے اندر کے مسائل، جیسے گھریلو تشدد یا غیر اخلاقی رویوں کی وجہ سے گھر چھوڑنا۔</item>
        <item n="5">بعض بچوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے اور دور دراز مقامات پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔</item>
      </list>
    </section>

    <section id="sec-global-stats" xml:lang="ur">
      <title>عالمی سطح پر لاوارث بچوں کے اعداد و شمار اور مسائل کی سرسری جائزہ</title>
      <list>
        <item n="1">یتیم بچوں کی عالمی تعداد تقریباً 153 ملین ہے (CAFO)۔</item>
        <item n="2">SOS Children's Villages کے مطابق ہر سال تقریباً 12 ملین بچے یتیم ہو جاتے ہیں۔</item>
        <item n="3">Home for Every Child کے مطابق افریقہ میں 43.4 ملین اور ایشیا میں 87.6 ملین یتیم بچے ہیں۔</item>
        <item n="4">UNICEF اور WHO کے مطابق 263 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں، 69 ملین بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، اور تقریباً 3 ملین بچے سالانہ فوت ہوتے ہیں۔</item>
        <item n="5">عالمی اداروں کے مطابق تقریباً 250 ملین بچے تنازعات اور جنگوں سے متاثرہ علاقوں میں رہتے ہیں (بشمول پاکستان کے بعض علاقے)۔</item>
        <item n="6">اقوام متحدہ نے 2024 میں 93.7 ملین بچوں کی مدد کے لیے 9.3 بلین ڈالر کی امداد کی اپیل کی۔</item>
      </list>
    </section>

    <section id="sec-pakistan-issues" xml:lang="ur">
      <title>پاکستان میں لاوارث بچوں کے مسائل</title>
      <list>
        <item n="1">انسانی حقوق کے محافظ اداروں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 4.2 ملین بچے یتیم ہیں، جو زیادہ تر غربت، دہشت گردی اور قدرتی آفات کا نتیجہ ہیں۔</item>
        <item n="2">بہت سے یتیم بچے فلاحی اداروں میں داخل نہیں ہو پاتے، اکثر گلیوں یا مزدوری میں وقت گزارتے ہیں اور اغوا، گمشدگی یا زبردستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔</item>
        <item n="3">لاوارث بچوں کی اکثریت اسکول جانے سے محروم رہتی ہے، جس سے غربت اور سماجی بے دخلی کا چکر شدید ہوتا ہے۔</item>
      </list>

      <subsection title="جذباتی اور نفسیاتی مسائل">
        <list>
          <item>ذہنی دباؤ اور عدم تحفظ کا احساس</item>
          <item>شخصیت کا بحران اور اعتماد کی کمی</item>
          <item>معاشرتی بے حسی کا شکار ہونا</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="تعلیمی محرومیاں">
        <list>
          <item>تعلیم تک رسائی کی کمی</item>
          <item>معیار کی خرابی</item>
          <item>تعلیم سے محرومی کے اثرات</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="صحت کے مسائل">
        <list>
          <item>صحت کی دیکھ بھال کی عدم دستیابی</item>
          <item>ذہنی صحت کی خرابی</item>
          <item>جنسی اور جسمانی استحصال</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="معاشی الجھنیں">
        <list>
          <item>غربت اور بے روزگاری</item>
          <item>بچپن میں مزدوری</item>
          <item>جرائم میں ملوث ہونے کا خطرہ</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="سماجی مسائل">
        <p>لاوارث بچے معاشرے میں تنہا رہ جاتے ہیں، لوگ ان کے مسائل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گھریلو یا کاروباری مقامات پر کام کرتے ہوئے ان پر تشدد زیادہ عام ہے۔</p>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-global-orgs" xml:lang="ur">
      <title>عالمی سطح پر ادارے</title>
      <subsection title="UNICEF">
        <p>یونیسف (United Nations International Children's Emergency Fund) اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی ہے جو دنیا بھر میں بچوں کے حقوق کی حفاظت، ضروریات کی فراہمی اور تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ 11 دسمبر 1946 کو قائم ہوا، ابتدا میں دوسری جنگ عظیم سے متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے قائم کی گئی؛ 1953 میں اسے اقوام متحدہ کا مستقل حصہ بنا دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن (UNCRC) کو 20 نومبر 1989 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنایا۔ آرٹیکل 7 لاوارث اور بے سہارا بچوں کے حقوق کے حوالے سے اہم شق ہے: ہر بچے کو پیدائش کے وقت رجسٹریشن، نام رکھنے، قومیت حاصل کرنے اور جہاں ممکن ہو اپنے والدین کو جاننے اور دیکھ بھال حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="Save the Children">
        <p>سیو دی چلڈرن ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہے جو بچوں کے حقوق کی حفاظت اور فلاح و بہبود کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کا قیام 1919 میں برطانیہ میں ہوا، اور یہ دنیا کی پہلی تنظیم تھی جو بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے وقف تھی۔</p>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-pak-orgs" xml:lang="ur">
      <title>پاکستان میں کام کرنے والے ادارے</title>
      <subsection title="الخدمت فاؤنڈیشن">
        <p>الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کی ایک غیر منافع بخش، غیر سرکاری تنظیم (NGO) ہے جو انسانیت کی خدمت کے لیے وقف ہے۔ اس کا قیام 1990 کی دہائی میں ہوا۔ یہ "آغوش ہومز" کے تحت رہائش، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرتی ہے، اور "یتیم فیملی سپورٹ پروگرام" کے ذریعے مالی امداد بھی فراہم کرتی ہے۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="پاکستان سویٹ ہوم">
        <p>پاکستان سویٹ ہوم ایک فلاحی ادارہ ہے جو بے سہارا اور لاوارث بچوں کی کفالت، تعلیم اور تربیت کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی، زرمداخان (اسحاق باپری) کی قیادت میں۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="پاکستان چلڈرن ریلیف (PCR)">
        <p>یہ غیر سرکاری تنظیم بے سہارا بچوں کو تعلیم، صحت، تحفظ اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ سالانہ تقریباً 20 ہزار بچوں کو خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="ایدھی ویلفیئر فاؤنڈیشن">
        <p>پاکستان کی سب سے بڑی غیر سرکاری فلاحی تنظیم، بنیاد 1951 میں عبدالستار ایدھی نے رکھی۔ اس کا لاوارث بچوں کی کفالت میں کلیدی کردار ہے، بشمول:</p>
        <list>
          <item>ایدھی جھولے — والدین اپنے لاوارث یا ناخواستہ بچوں کو بغیر خوف کے چھوڑ سکتے ہیں</item>
          <item>یتیم و بے سہارا بچوں کے مراکز</item>
          <item>گود لینے کی محفوظ اور شفاف سہولت</item>
          <item>تعلیم و تربیت</item>
          <item>رہنمائی اور نگہداشت</item>
        </list>
      </subsection>
      <subsection title="چھیپا ویلفیئر فاؤنڈیشن">
        <p>پاکستان کی ایک معروف غیر سرکاری فلاحی تنظیم، بنیاد 2007 میں رمضان چھیپا نے رکھی۔ ایدھی کی طرز پر جھولے فراہم کرتی ہے اور لاوارث بچوں کے لیے خصوصی یتیم خانے قائم ہیں۔</p>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-islamic-provisions" xml:lang="ur">
      <title>لاوارث بچوں کے حقوق کے تحفظ کے اسلامی احکام</title>
      <p>اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لاوارث کے تصور کو سمجھنا ضروری ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ہر یتیم بچہ لاوارث نہیں ہوتا اور نہ ہی ہر لاوارث بچہ یتیم ہوتا ہے۔ جس بچے کو بھی ولی (والدین، وارث، ریاست یا ادارہ/تنظیم) میسر آجائے وہ "لاوارث" نہیں رہتا۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں "لاوارث بچوں" کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی طور پر "ولی" کے تعین کو اہمیت دی جاتی ہے اور پھر اس ولی پر نومولود سے لے کر بچوں کے حقوق کے تحفظ کی ذمہ داری ڈالی جاتی ہے۔</p>

      <subsection title="حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ">
        <p>اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کو الہام کیا کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلانے کے بعد صندوق میں رکھ کر دریا میں ڈال دیں۔ اللہ نے وعدہ کیا کہ وہ موسیٰ کو محفوظ رکھے گا اور انہیں واپس ان کی والدہ کے پاس لوٹائے گا (سورۃ القصص: 12–13)۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ">
        <p>حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے انہیں کنویں میں ڈال دیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت فرمائی اور انہیں مصر کے ایک معزز شخص کے گھر پہنچایا، جہاں ان کی پرورش ہوئی (سورۃ یوسف: 21)۔</p>
        <p>دونوں انبیاء علیہم السلام کے واقعات کو قرآن نے لقیط (لاوارث) کے معنی میں استعمال کیا ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان">
        <p>دوسری صورت وہ ہے جب لاوارث بچوں کی ولایت کی ذمہ داری خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لے لی۔ آپ نے فرمایا: "جس کا کوئی ولی (سرپرست) نہ ہو، اس کا ولی میں ہوں۔"</p>
      </subsection>

      <subsection title="حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ">
        <p>بنو سلیم کے ایک آدمی نے ایک نومولود پھینکے ہوئے بچے کو اٹھایا اور حضرت عمرؓ کے پاس لے کر آیا۔ حضرت عمرؓ نے استفسار کے بعد فرمایا: اس بچے کو لے جاؤ، یہ آزاد ہے، اس کا ولاء تمہارے لیے ہے اور اس کا خرچ ہمارے ذمے ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="لاوارث بچوں کی اقسام">
        <list>
          <item n="1">یتیم بچے</item>
          <item n="2">لے پالک بچے</item>
          <item n="3">لقیط (یعنی گرا پڑا بچہ) — اسی قسم کے حوالے سے، بغیر والدین کی شناخت کے بچوں کو عصری قوانین میں جگہ دی جاتی ہے (سورۃ الاحزاب: 4)</item>
        </list>
        <p>ان تینوں اقسام میں سے تیسری قسم (لقیط) اس مطالعے کے موضوع سے براہ راست تعلق رکھتی ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="جان کے تحفظ کا حکم">
        <p>سورۃ المائدہ (5:32): "جس نے کسی کو ناحق قتل کیا، بغیر کسی کے یا زمین میں فساد کے، گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا۔" فقہاء کی تصریحات کے مطابق لقیط کی جان کی حفاظت اسلامی معاشرے پر واجب ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="مال کے تحفظ کا حکم">
        <p>سورۃ النساء (4:10): "یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ، سوائے اس کے کہ بہتری کے ساتھ ہو۔" حدیث: "بے شک اللہ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو یتیموں کے مال کو ظلم کے ساتھ کھاتے ہیں۔" لقیط کے مال کی حفاظت اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="دین کے تحفظ کا حکم">
        <p>سورۃ الروم (30:30): "یہ اللہ کی فطرت ہے، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔" حدیث: "ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔" لقیط کی دینی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری اس کے کفیل پر ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="نسب کے تحفظ کا حکم">
        <p>سورۃ الاحزاب (33:5): "ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے حقیقی باپوں کے نام سے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف ہے۔" لقیط کا نسب محفوظ رکھنا واجب ہے۔ حدیث: "الولد للفراش وللعاهر الحجر" — بچہ صاحبِ فراش کا ہے، زانی کے لیے پتھر ہے۔ فقہ کی مشہور کتاب (الہدایہ) کی شرح (اثمار الہدایہ) کے مطابق زنا سے پیدا شدہ اولاد عورت کی ہے، کسی مرد کی نہیں، لہٰذا لقیط کا نسب بھی کسی سے ثابت نہیں ہوگا۔</p>
        <p>اہل علم کے نزدیک لقیط کو منہ بولے رشتے دینے سے پرہیز کیا جائے تاکہ نسب کی شناخت محفوظ رہے۔ ایسے بچوں کو دینی حیثیت سے بھائی کا درجہ دیا جائے کیونکہ نسب تبدیل نہ کیا جائے، اور عرف کی رعایت کی گنجائش بھی موجود ہے۔</p>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-uncrc" xml:lang="ur">
      <title>اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کا کنونشن (UNCRC)</title>
      <p>اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے کنونشن 1989 کے تحت بچوں کے تحفظ، دیکھ بھال اور پرورش کے حق کو یقینی بنایا گیا ہے۔ اہم شقیں:</p>
      <list>
        <item>آرٹیکل 3: بچوں کی فلاح و بہبود ہر قانون اور پالیسی میں اولین ترجیح ہوگی۔</item>
        <item>آرٹیکل 20: ایسے بچے جن کے والدین موجود نہیں یا جو مناسب دیکھ بھال سے محروم ہیں، انہیں خصوصی تحفظ اور ریاستی نگرانی فراہم کی جائے گی۔</item>
        <item>ہیگ کنونشن آن انٹر-کنٹری اڈاپشن: لاوارث بچوں کی بین الاقوامی گود لینے کے عمل کو محفوظ اور منظم کرتا ہے۔</item>
        <item>UNICEF: بچوں کے حقوق اور تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کے نفاذ کو یقینی بناتا ہے۔</item>
        <item>آرٹیکل 7: ہر بچے کو پیدائش کے وقت رجسٹریشن، نام رکھنے، قومیت حاصل کرنے اور اپنے والدین کو جاننے کا حق حاصل ہے، خاص طور پر جب بچہ لاوارث ہو یا اپنے والدین کے بغیر رہ رہا ہو۔</item>
      </list>
      <p>بھارت کا جووینائل جسٹس ایکٹ 2015: بھارت میں لاوارث بچوں کے تحفظ کے لیے جووینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرن) ایکٹ 2015 نافذ ہے، جو بچوں کو قانونی سرپرستی دینے اور ان کے حقوق کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔</p>
    </section>

    <section id="sec-pak-legislation" xml:lang="ur">
      <title>پاکستان میں لاوارث بچوں کا تحفظ</title>

      <subsection title="قومی سطح پر ہونے والی قانون سازی">
        <list>
          <item>آئین پاکستان، آرٹیکل 25(1)(2): تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں اور قانون کے مساوی تحفظ کے حق دار ہیں۔ جنس کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں ہوگا؛ یہ آرٹیکل ریاست کو خواتین اور بچوں کے تحفظ کے لیے خصوصی انتظام سے نہیں روکتا۔</item>
          <item>آئین پاکستان، آرٹیکل 35: ریاست شادی، خاندان، ماں اور بچے کا تحفظ کرے گی۔</item>
          <item>پاکستان پینل کوڈ 1860، دفعہ 83: سات سے بارہ سال کی عمر کے بچے کے فعل سے متعلق۔</item>
          <item>پاکستان پینل کوڈ 1860، دفعہ 328: بارہ سال سے کم عمر بچے کو مکمل طور پر چھوڑنے کی نیت سے چھوڑنے پر سزا — سات سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں۔</item>
          <item>پاکستان پینل کوڈ 1860، دفعہ 338: اسقاطِ حمل سے متعلق۔</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="وفاقی سطح پر ہونے والی قانون سازی">
        <p>2018 میں حکومت نے وفاقی سطح پر بچوں کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جس میں بچوں کے ذہنی و سماجی تحفظ کو خصوصی اہمیت دی گئی، اور اسے "The Islamabad Capital Territory Child Protection Act, 2018" کا نام دیا گیا۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="صوبائی سطح پر قانون سازی: پنجاب">
        <list>
          <item>The Punjab Court of Wards Act, 1903 (بشمول ترامیم 2011، 2012)</item>
          <item>The Punjab Borstal Act, 1926</item>
          <item>The Child Marriage Restraint Act, 1929 (بشمول ترمیم 2015)</item>
          <item>The Punjab Maternity Benefit Ordinance 1958 (بشمول ترامیم 2012، 2016)</item>
          <item>Punjab Destitute and Neglected Children Act, 2004 / Child Protection &amp; Welfare Bureau</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="صوبائی سطح پر قانون سازی: سندھ">
        <list>
          <item>Sindh Children Act, 1955</item>
          <item>Sindh Child Protection Authority Act, 2011 (SCPA Act, 2011)</item>
          <item>The Sindh Prohibition of Employment of Children Act, 2017</item>
          <item>The Sindh Home-Based Workers Act, 2018</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="صوبائی سطح پر قانون سازی: خیبر پختونخوا">
        <p>The Khyber Pakhtunkhwa Child Protection and Welfare Act, 2010</p>
      </subsection>

      <subsection title="صوبائی سطح پر قانون سازی: بلوچستان">
        <list>
          <item>The Balochistan Compulsory Education Act, 2014</item>
          <item>The Balochistan Protection and Promotion of Breast Feeding and Child Nutrition Act, 2014</item>
          <item>The Balochistan Child Protection Act, 2016</item>
          <item>The Prohibition of Sheesha Smoking in Balochistan Act, 2016</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="دیگر ادارے و اقدامات">
        <list>
          <item>Punjab Child Protection &amp; Welfare Bureau — لاوارث اور بے سہارا بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتا ہے</item>
          <item>Juvenile Justice System Act, 2016 — بچوں کو ریاست کی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے، شیلٹر ہومز اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں</item>
          <item>چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ، قومی کمیشن برائے حقوق اطفال، ایدھی فاؤنڈیشن</item>
        </list>
        <p>نادرا، جیو نیوز اور ڈان نیوز کی رپورٹس کے مطابق لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کا مسئلہ پاکستان میں اہم قانونی و سماجی مسئلہ رہا ہے، جس پر سپریم کورٹ نے اہم فیصلے کیے ہیں۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="سپریم کورٹ کا فیصلہ اور نادرا کی پالیسی">
        <p>سپریم کورٹ نے عبدالستار ایدھی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہدایت دی کہ لاوارث بچوں کے لیے نادرا ایک پالیسی اپنائے، جس میں ان کی پیدائشی خانے میں فرضی نام شامل کیا جا سکے تاکہ ان بچوں کو شناخت اور شہری حقوق دیے جا سکیں۔ نادرا نے لاوارث بچوں کی رجسٹریشن کو آسان بنایا ہے — اب ان بچوں کو رجسٹریشن کے لیے عدالتی حکم نامے کی ضرورت نہیں ہوگی، اور یتیم خانے یا کسی سرپرست کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اندراج کیا جا سکے گا۔</p>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-other-muslim-countries" xml:lang="ur">
      <title>پاکستان کے علاوہ دیگر اسلامی ممالک میں قوانین</title>

      <subsection title="سعودی عرب">
        <list>
          <item>کفالت کا نظام: لاوارث بچوں کو "کفالت" کے تحت رکھا جاتا ہے؛ "کفیل" بننے کے لیے حکومتی منظوری درکار ہے۔</item>
          <item>وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی: لاوارث بچوں کے لیے خصوصی مراکز قائم کرتی ہے۔</item>
          <item>نظامِ حضانہ سعودی قوانین میں بچوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="ترکی">
        <list>
          <item>Çocuk Koruma Kanunu (چائلڈ پروٹیکشن لاء) — 2005 میں ترک پارلیمنٹ نے نافذ کیا۔</item>
          <item>وزارت خاندانی و سماجی خدمات — شیلٹرز، تعلیم اور بنیادی سہولیات فراہم کرتی ہے۔</item>
          <item>SOS Children's Villages Turkey — کمیونٹی سپورٹ سسٹم فراہم کرتی ہے۔</item>
          <item>Turkish Civil Code — بچوں کی قانونی سرپرستی کے اصولوں کو واضح کرتا ہے۔</item>
        </list>
      </subsection>

      <subsection title="ایران">
        <list>
          <item>آئینِ ایران، دفعات 21 اور 29 — لاوارث اور یتیم بچوں کو سماجی انصاف اور تحفظ کی ضمانت۔</item>
          <item>Child Protection Act, 2018 — لاوارث بچوں کی سرپرستی اور حقوق کے تحفظ کو قانونی تحفظ دیا گیا۔</item>
          <item>Child Welfare Committee — لاوارث بچوں کو سرپرستی اور تعلیم فراہم کرتی ہے۔</item>
          <item>امام خمینی ریلیف فاؤنڈیشن — یتیم اور بے سہارا بچوں کی مالی مدد اور تعلیم فراہم کرتا ہے۔</item>
          <item>Iranian Civil Code، باب کفالت — بچوں کے حقوق سے متعلق تفصیلات فراہم کرتا ہے۔</item>
        </list>
      </subsection>

      <p>مختصراً یہ کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور ایران میں لاوارث بچوں کے تحفظ کے قوانین میں اسلامی اصولوں کو بنیاد بنایا گیا ہے، جبکہ ترکی نے یورپی روایات کو بھی اپنے نظام میں شامل کیا ہے۔</p>
    </section>

    <section id="sec-implementation-review" xml:lang="ur">
      <title>تشریعی و عصری قوانین کا اطلاقی جائزہ</title>

      <subsection title="تشریعی قوانین: مثبت پہلو">
        <p>اسلامی تشریعات کا کفالت کا نظام (ولایت اور وصیت) یتیموں اور لاوارث بچوں کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے، جو محض مالی معاونت تک محدود نہیں بلکہ ان کی تربیت، تعلیم اور سماجی فلاح کو بھی یقینی بناتا ہے۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="تشریعی قوانین: منفی پہلو">
        <p>بہت سے مسلم ممالک میں تشریعی قوانین کے نفاذ کا مکمل نظام موجود نہیں، اور کفالت کے تشریعی اصول اکثر حکومتی سطح پر لاگو نہیں کیے جاتے۔ یتیم خانے یا شیلٹر ہومز اکثر پیشہ ورانہ مہارت اور معیاری سہولیات سے محروم ہوتے ہیں۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="عصری قوانین: مثبت پہلو">
        <p>عصری قوانین، جیسے UNCRC، بچوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہیں اور ان کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ مختلف ممالک میں بچوں کے لیے شیلٹر ہومز، کفالت کے پروگرام اور فلاحی ادارے قائم کیے گئے ہیں۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="عصری قوانین: منفی پہلو">
        <p>بین الاقوامی سطح پر قوانین موجود ہیں مگر مکمل عمل درآمد اکثر نہیں ہوپاتا، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں فنڈز کی کمی اور بیوروکریسی کی پیچیدگیاں رکاوٹ بنتی ہیں۔ بعض قوانین اسلامی یا مقامی ثقافتوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتے، جیسے گود لینے (adoption) کا مغربی ماڈل، جو اسلامی قوانین سے مختلف ہے۔</p>
      </subsection>
      <subsection title="عصری و تشریعی قوانین کے حاصل شدہ نتائج">
        <p>عصری و تشریعی قوانین کے اطلاق میں جزوی طور پر کامیابی حاصل ہوئی ہے، مگر ناکامی کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ یتیم خانہ وموجود ہونے کے باوجود بے سہارا بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔</p>
      </subsection>

      <subsection title="بہتر نتائج کے حصول کے لیے تجویز کردہ اقدامات">
        <list>
          <item>عصری قوانین کو اسلامی ممالک کی ثقافت اور دینی اقدار کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جائے۔</item>
          <item>تشریعی قوانین کے نفاذ کے لیے جدید ادارہ جاتی ڈھانچہ قائم کیا جائے۔</item>
          <item>حکومتی سطح پر قوانین کے نفاذ کی نگرانی کے لیے آزاد کمیٹیاں تشکیل دی جائیں۔</item>
          <item>بچوں کے حقوق کے حوالے سے شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔</item>
          <item>حکومت اور NGOs مل کر ایسے ادارے قائم کریں جو تعلیم، تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کریں۔</item>
          <item>عوام میں شعور اجاگر کیا جائے کہ لاوارث بچوں کی کفالت ایک تشریعی فریضہ اور سماجی ذمہ داری ہے۔</item>
          <item>اسکولوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے بچوں کے حقوق کے بارے میں آگاہی بڑھائی جائے۔</item>
          <item>کمیونٹی کو بچوں کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے۔</item>
        </list>
      </subsection>
    </section>

    <section id="sec-conclusion" xml:lang="ur">
      <title>خلاصہ کلام</title>
      <p>بچوں کے لاوارث ہونے کے عوامل اور اس کی وجوہات توجہ طلب ہیں جن کا سدباب ضروری ہے، اور اسلامی تعلیمات میں ہی اس کا بہتر حل موجود ہے، جبکہ اقوام متحدہ یا دیگر فلاحی اداروں کے کیے گئے اقدامات و قوانین محض وقتی طور پر مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں، اس لیے ان سے دیرپا نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے۔ عصری اور تشریعی قوانین دونوں لاوارث بچوں کے تحفظ کے لیے اہم فریم ورک فراہم کرتے ہیں، مگر ان کے نفاذ اور عمل درآمد میں کمی موجود ہے۔ عصری قوانین کو تشریعی اصولوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا اور ان پر عمل درآمد کو یقینی بنانا بہتر نتائج کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے ادارہ جاتی ترقی، قانون کی بالادستی، اور عوامی آگاہی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
    </section>

  </body>

  <bibliography>
    <category name="Books">
      <entry lang="en">Faydh, ʿAli Ridha. Mabādi-yi Fiqh wa Uṣūl. 4th ed. Tehran: Tehran University Publication, 1410 AH/1990.</entry>
      <entry lang="ur">فیض، علی رضا۔ مبادئ فقہ و اصول۔ چوتھا ایڈیشن۔ تہران: تہران یونیورسٹی پبلیکیشنز، 1410ھ/1990ء۔</entry>
      <entry lang="en">Ibn Ḥajar al-ʿAsqalānī, Aḥmad ibn ʿAlī ibn Muḥammad. Al-Dirāyah fī Takhrīj Aḥādīth al-Hidāyah. Vol. 2. Beirut: Dār al-Maʿrifah.</entry>
      <entry lang="ur">ابن حجر العسقلانی، احمد بن علی بن محمد۔ الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ۔ جلد 2۔ بیروت: دار المعرفہ۔</entry>
      <entry lang="en">Tavakkoli, Saeid Nazari. Child Custody in Islamic Jurisprudence. Translated by Ahmad Rezwani. Mashhad: The Islamic Research Foundation of Astan Quds Razavi.</entry>
    </category>
    <category name="Journal Article">
      <entry lang="ur">"لقیط کی تعریف اور احکام شریعت کے تناظر میں۔" الازہار 6، شمارہ 1 (جنوری–جون 2020ء)۔</entry>
    </category>
    <category name="International Organizations and Reports">
      <entry>Alkhidmat Foundation Pakistan. About Alkhidmat Foundation. Accessed July 13, 2026. https://alkhidmat.org/about-us.</entry>
      <entry>CAFO (Christian Alliance for Orphans). Orphan Statistics. Accessed July 13, 2026. https://cafo.org/orphan-statistics/.</entry>
      <entry>Chhipa Welfare Association. About Chhipa Welfare. Accessed July 13, 2026. https://www.chhipa.org.</entry>
      <entry>Edhi Foundation. About Us. Accessed July 13, 2026. https://edhi.org/about-us/.</entry>
      <entry>Home for Every Child. Facts and Stats. Accessed July 13, 2026. https://www.homeforeverychild.org/facts-and-stats.</entry>
      <entry>Pakistan Children Relief. Our Mission. Accessed July 13, 2026. https://pakistanchildrenrelief.org.</entry>
      <entry>Pakistan Sweet Home. About Pakistan Sweet Home. Accessed July 13, 2026. https://pakistansweethome.org.</entry>
      <entry>Save the Children. About Us. Accessed July 13, 2026. https://www.savethechildren.org/us/about-us.</entry>
      <entry>SOS Children's Villages International. International Annual Report 2024. Accessed July 13, 2026. https://www.sos-childrensvillages.org/getmedia/79dd4751-ef7e-4951-b361-9e408e8b3d1b/Intl-Annual-Report-2024-EN.pdf.</entry>
      <entry>United Nations Children's Fund (UNICEF). Children in Humanitarian Action. Accessed July 13, 2026. https://www.unicef.org/emergencies.</entry>
      <entry>United Nations Children's Fund (UNICEF). Education: Out-of-School Children. Accessed July 13, 2026. https://www.unicef.org/education.</entry>
      <entry>United Nations Children's Fund (UNICEF). Humanitarian Action for Children 2024. New York: UNICEF, 2024. Accessed July 13, 2026. https://www.unicef.org/appeals.</entry>
      <entry>United Nations Treaty Collection. Accessed July 13, 2026. https://treaties.un.org.</entry>
      <entry>World Health Organization (WHO). Malnutrition. Accessed July 13, 2026. https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/malnutrition.</entry>
    </category>
    <category name="Constitutional and Legal Documents">
      <entry>Government of Pakistan. The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, 1973. Islamabad: Government of Pakistan.</entry>
      <entry>Government of Pakistan. Pakistan Penal Code, 1860. Islamabad: Government of Pakistan.</entry>
    </category>
    <category name="Primary Islamic Sources">
      <entry type="quran">The Holy Qur'an. Surah references used in the study include: Surah al-Ahzab (33): 4–5; Surah al-Ma'idah (5): 32; Surah al-Nisa' (4): 10; Surah al-Qasas (28): 8, 12–13; Surah al-Rum (30): 30; Surah Yusuf (12): 10, 21.</entry>
      <entry type="hadith" lang="en">Abu Dawud, Sulayman ibn al-Ash'ath al-Sijistani. Sunan Abi Dawud. Beirut: Dar al-Risalah al-'Alamiyyah.</entry>
      <entry type="hadith" lang="en">Al-Bukhari, Muhammad ibn Isma'il. Sahih al-Bukhari. Beirut: Dar Tawq al-Najah.</entry>
      <entry type="hadith" lang="en">Ibn Majah, Muhammad ibn Yazid al-Qazwini. Sunan Ibn Majah. Beirut: Dar Ihya' al-Kutub al-'Arabiyyah.</entry>
      <entry type="hadith" lang="en">Muslim ibn al-Hajjaj al-Naysaburi. Sahih Muslim. Beirut: Dar Ihya' al-Turath al-'Arabi.</entry>
      <entry type="fiqh" lang="en">Al-Marghinani, Burhan al-Din Abu al-Hasan 'Ali ibn Abi Bakr. Al-Hidayah Sharh Bidayat al-Mubtadi. Beirut: Dar Ihya' al-Turath al-'Arabi.</entry>
      <entry type="fiqh" lang="en">Al-Khan, Muhammad Akram. Athmar al-Hidayah. Karachi: Maktabat al-Bushra.</entry>
    </category>
  </bibliography>

  <endnotes>
    <note n="1">Faydh, Ali Ridha, Mabadi-yi Fiqh wa Usul, 4th edition, Tehran University Publication, 1410/1990, p. 338.</note>
    <note n="2">Tavakkoli, Saeid Nazari, Child Custody in Islamic Jurisprudence, page 64, Publisher: The Islamic Research Foundation of Astan Quds Razavi. (Translated by Ahmad Rezwani)</note>
    <note n="3">Tavakkoli, Saeid Nazari, Child Custody in Islamic Jurisprudence, page 64, Publisher: The Islamic Research Foundation of Astan Quds Razavi. (Translated by Ahmad Rezwani)</note>
    <note n="4">https://cafo.org/orphan-statistics/</note>
    <note n="5">https://www.sos-childrensvillages.org/getmedia/79dd4751-ef7e-4951-b361-9e408e8b3d1b/Intl-Annual-Report-2024-EN.pdf</note>
    <note n="6">https://www.homeforeverychild.org/facts-and-stats</note>
    <note n="7">UNICEF, Education: Out-of-School Children, accessed July 13, 2026, https://www.unicef.org/education; WHO, Malnutrition, accessed July 13, 2026, https://www.who.int/news-room/fact-sheets/detail/malnutrition.</note>
    <note n="8">UNICEF, Children in Humanitarian Action, accessed July 13, 2026, https://www.unicef.org/emergencies.</note>
    <note n="9">UNICEF, Humanitarian Action for Children 2024: Overview, New York: UNICEF, 2024, accessed July 13, 2026, https://www.unicef.org/appeals.</note>
    <note n="10">United Nations Treaty Collection, accessed July 13, 2026.</note>
    <note n="11">Save the Children, About Us, accessed July 13, 2026, https://www.savethechildren.org/us/about-us.</note>
    <note n="12">Alkhidmat Foundation Pakistan, About Alkhidmat Foundation, accessed July 13, 2026, https://alkhidmat.org/about-us.</note>
    <note n="13">Pakistan Sweet Home, About Pakistan Sweet Home, accessed July 13, 2026, https://pakistansweethome.org.</note>
    <note n="14">Pakistan Children Relief, Our Mission, accessed July 13, 2026, https://pakistanchildrenrelief.org.</note>
    <note n="15">Edhi Foundation, About Us, accessed July 13, 2026, https://edhi.org/about-us/.</note>
    <note n="16">Chhipa Welfare Association, About Chhipa Welfare, accessed July 13, 2026, https://www.chhipa.org.</note>
    <note n="17">Surah al-Qasas (28): 12–13</note>
    <note n="18">Surah Yusuf (12): 21</note>
    <note n="19">Surah Yusuf (12): 10</note>
    <note n="20">Surah al-Qasas (28): 8</note>
    <note n="21">"Laqit ki Ta'rif aur Ahkam-i Shari'at ke Tanazur Mein." Al-Azhar 6, no. 1 (January–June 2020).</note>
    <note n="22">Ibn Majah, Muhammad ibn Yazid al-Qazwini. Sunan Ibn Majah. Beirut: Dar Ihya' al-Kutub al-'Arabiyyah, Hadith no. 2719.</note>
    <note n="23">Ibn Hajar al-'Asqalani, Ahmad ibn 'Ali ibn Muhammad. Al-Dirayah fi Takhrij Ahadith al-Hidayah. Vol. 2, p. 140. Beirut: Dar al-Ma'rifah.</note>
    <note n="24">Surah al-Ahzab (33): 4</note>
    <note n="25">Surah al-Ma'idah (5): 32</note>
    <note n="26">Surah al-Nisa' (4): 10</note>
    <note n="27">Muslim ibn al-Hajjaj al-Naysaburi. Sahih Muslim. Beirut: Dar Ihya' al-Turath al-'Arabi, Hadith no. 1610.</note>
    <note n="28">Surah al-Rum (30): 30</note>
    <note n="29">Al-Bukhari, Muhammad ibn Isma'il. Sahih al-Bukhari. Beirut: Dar Tawq al-Najah, Hadith no. 1358.</note>
    <note n="30">Surah al-Ahzab (33): 4–5</note>
    <note n="31">Bukhari, Sahih al-Bukhari, 8:165, Hadith no. 6818.</note>
    <note n="32">Abu Dawud, Sulayman ibn al-Ash'ath al-Sijistani, Sunan Abi Dawud (Beirut: Dar al-Risalah al-'Alamiyyah, 2009), Kitab al-Nikah, Bab fi Idda' Walad al-Zina, Hadith no. 2264.</note>
    <note n="33">Surah al-Ahzab (33): 4</note>
    <note n="34">United Nations Treaty Collection, accessed July 13, 2026.</note>
    <note n="35">The Constitution of Pakistan 1973, Article 25(1)(2)</note>
    <note n="36">Ibid, Article 35</note>
    <note n="37">Pakistan Penal Code, 1860, section 83</note>
    <note n="38">Pakistan Penal Code, 1860, section 328</note>
    <note n="39">Pakistan Penal Code, 1860, section 338</note>
  </endnotes>

</article>
